السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من استعفى فإن لم يعف أجاب باب: اس شخص کا بیان جو (دعوت میں شرکت سے) معذرت طلب کرے، پھر اگر اسے معاف نہ کیا جائے تو وہ دعوت قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 14541
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا أَدْرِي عَنْ عَطَاءٍ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ ابْنِ صَفْوَانَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يُعَالِجُ زَمْزَمَ يَدْعُوهُ وَأَصْحَابَهُ فَأَمَرَهُمْ فَقَامُوا وَاسْتَعْفَاهُ وَقَالَ: " إِنْ لَمْ يُعْفِنِي جِئْتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء یا کوئی دوسرا کہتا ہے کہ ابن صفوان کا قاصد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو وہ زمزم سے علاج کر رہے تھے۔ اس نے ان کو اور ان کے شاگردوں کو دعوت دی تو انہوں نے شاگردوں کو روانہ کر دیا اور خود اس سے معذرت کی اور کہا: اگر وہ میری معذرت قبول نہ کریں تو میں بھی آ جاؤں گا۔