کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو (دعوت میں شرکت سے) معذرت طلب کرے، پھر اگر اسے معاف نہ کیا جائے تو وہ دعوت قبول کر لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: دُعِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ يُعَالِجُ أَمْرَ السِّقَايَةِ قَالَ لِلْقَوْمِ: " قُومُوا إِلَى أَخِيكُمْ أَوْ أَجِيبُوا أَخَاكُمْ فَاقْرَءُوا عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرُوهُ أَنِّي مَشْغُولٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کھانے کی دعوت دی گئی، وہ سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے) کے انتظام میں مشغول تھے، تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی طرف جاؤ یا اپنے بھائی کی دعوت قبول کرو، اسے میری طرف سے سلام کہنا اور کہہ دینا: میں مصروف ہوں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا أَدْرِي عَنْ عَطَاءٍ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ ابْنِ صَفْوَانَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يُعَالِجُ زَمْزَمَ يَدْعُوهُ وَأَصْحَابَهُ فَأَمَرَهُمْ فَقَامُوا وَاسْتَعْفَاهُ وَقَالَ: " إِنْ لَمْ يُعْفِنِي جِئْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء یا کوئی دوسرا کہتا ہے کہ ابن صفوان کا قاصد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو وہ زمزم کے انتظام میں مشغول تھے۔ اس نے ان کو اور ان کے شاگردوں کو دعوت دی تو انہوں نے شاگردوں کو روانہ کر دیا اور خود اس سے معذرت کی اور کہا: اگر وہ میری معذرت قبول نہ کریں تو میں بھی آ جاؤں گا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دُعِيَ يَوْمًا إِلَى طَعَامٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا فَاعْفِنِي مِنْ هَذَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَا عَافِيَةَ لَكَ مِنْ هَذَا فَقُمْ فَقَامَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک دن کھانے کی دعوت دی گئی تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”کیا میں اس سے معذرت نہ کرلوں؟“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”تیری کوئی معذرت قبول نہیں، چلو۔“