السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من لم يدع ثم جاء فأكل لم يحل له ما أكل إلا بأن يحل له صاحب الوليمة باب: اس شخص کا بیان جسے دعوت نہ دی گئی ہو، پھر وہ آ کر کھا لے تو اس کے لیے وہ کھانا حلال نہیں ہے الا یہ کہ ولیمے والا (میزبان) اسے اس کے لیے حلال کر دے۔
حدیث نمبر: 14543
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ أَبْصَرَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا لَعَلِّي أَدْعُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَاهُمْ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ لَمْ يُدْعَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا قَدْ تَبِعَنَا فَتَأْذَنُ لَهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَأَخْرَجَاهُ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
ابو وائل سیدنا ابو مسعود یعنی عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص، جن کو ابو شعیب کہا جاتا تھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے بھوک محسوس کی تو اپنے قصاب بیٹے سے کہا کہ آپ ہمارے لیے کھانا پکائیں شاید میں رسول اللہ ﷺ سمیت پانچ آدمیوں کو کھانے کی دعوت دوں۔ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو ان کے پیچھے ایک شخص بغیر دعوت کے آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے گھر والے سے فرمایا: ”یہ ہمارے پیچھے بغیر دعوت کے آگیا ہے، کیا آپ اس کو اجازت دیتے ہیں؟“ اس نے اجازت دے دی۔