السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من استعفى فإن لم يعف أجاب باب: اس شخص کا بیان جو (دعوت میں شرکت سے) معذرت طلب کرے، پھر اگر اسے معاف نہ کیا جائے تو وہ دعوت قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 14540
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: دُعِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ يُعَالِجُ أَمْرَ السِّقَايَةِ قَالَ لِلْقَوْمِ: " قُومُوا إِلَى أَخِيكُمْ أَوْ أَجِيبُوا أَخَاكُمْ فَاقْرَءُوا عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرُوهُ أَنِّي مَشْغُولٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کھانے کی دعوت دی گئی، وہ پیاس کی بیماری کا علاج کرتے تھے، تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی طرف جاؤ یا اپنے بھائی کی دعوت قبول کرو، اسے میری طرف سے سلام کہنا اور کہہ دینا: میں مصروف ہوں۔