السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من قال: لا صداق لها باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ اس عورت کے لیے کوئی مہر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَةَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَأُمُّهَا ابْنَةُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَابْتَغَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَوْ كَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نَمْنَعْكُمُوهُ وَلَمْ يَظْلِمْهَا " فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ فَجَعَلُوا بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ " فَقَضَى أَنْ لَا صَدَاقَ لَهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ ".نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن عمر کی بیٹی، جن کی والدہ سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کے نکاح میں تھیں، وہ (بیٹا) دخول اور حق مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا، تو ان کی والدہ نے حق مہر کا تقاضا کیا، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”کوئی حق مہر نہیں ہے، اگر اس کا حق مہر ہوتا تو ہم منع بھی نہ کرتے اور ظلم بھی نہیں کرتے۔“ تو اس خاتون نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، تو انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فیصل بنا لیا، تو انہوں نے میراث کا فیصلہ دیا لیکن حق مہر نہ ہو گا۔