السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14393
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ: بُشِّرَ رَجُلٌ بِجَارِيَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ: هَبْهَا لِي فَذُكِرَ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: " لَمْ تَحِلَّ الْمَوْهُوبَةُ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا فَمَا فَوْقَهُ جَازَ " وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: " وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا أُحِلَّتْ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن عبداللہ بن قسیط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو بیٹی (کی پیدائش) کی خوشخبری دی گئی تو ایک دوسرے آدمی نے کہا: اسے مجھے ہبہ کر دو۔ اس کا تذکرہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے سامنے ہوا تو وہ فرمانے لگے: ”نبی ﷺ کے بعد ہبہ کی گئی عورت کسی کے لیے حلال نہیں ہے، اگر مرد عورت کو ایک کوڑا یا اس سے زیادہ حقِ مہر دے دے تو وہ جائز ہے۔“ اور دوسری جگہ پر ہے کہ ”اگر ایک کوڑا حقِ مہر دے دے تو وہ اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔“