السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14394
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى قَالَ: سَأَلْتُ رَبِيعَةَ كَمْ أَقَلُّ الصَّدَاقِ؟ فَقَالَ: " مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ "، قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ دِرْهَمًا؟ قَالَ: " وَإِنْ كَانَ نِصْفَ دِرْهَمٍ " قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ؟ قَالَ: " وَلَوْ كَانَ قَبْضَةً مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ حَبَّةَ حِنْطَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ربیعہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ حق مہر کتنا کم ہونا چاہیے؟ فرماتے ہیں: جتنے پر گھر والے راضی ہو جائیں، میں نے کہا: اگرچہ ایک درہم ہی ہو۔ فرمانے لگے: اگرچہ نصف درہم ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے کہا: اگر اس سے بھی کم ہو؟ فرماتے ہیں: اگرچہ ایک مٹھی گندم یا گندم کے دانے ہی کیوں نہ ہوں۔