السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14392
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الصَّدَاقُ مَا تَرَاضَى بِهِ الزَّوْجَانِ ".حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حق مہر وہ ہے جس پر میاں بیوی راضی ہوجائیں۔“