السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14391
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٌّ أَنْبَأَ السَّاجِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، وَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ، شَيْئًا قَطُّ وَبِمَعْنَاهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ⦗٣٩٤⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
ابن مثنیٰ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمن بن مہدی کو کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے ہمیں سفیان کے واسطے سے داؤد بن یزید سے کوئی روایت بیان کی ہو، اور عمرو بن علی نے بھی اسی معنی کی بات کہی ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا گیا ہے۔