السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14369
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَعِمْرَانُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ " كُنَّا نَنْكِحَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ " هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ إِلَّا أَنَّهُ أَتَى بِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ وَيَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے عہد میں ایک مٹھی کھانے کے عوض نکاح کر لیا کرتے تھے۔