السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَرَّمَ نِكَاحَ الْمُتْعَةِ بَعْدَ الرُّخْصَةِ، وَالنَّسْخُ إِنَّمَا وَرَدَ بِإِبْطَالِ الْأَجَلِ لَا قَدْرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ يَنْكِحُونَ مِنَ الصَّدَاقِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض متعہ کر لیتے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حریث کے معاملے میں اس سے منع فرما دیا۔
(ب) محمد بن رافع کی حدیث میں گزر چکا کہ نبی ﷺ نے متعہ کی رخصت کے بعد نکاحِ متعہ کو حرام قرار دے دیا، یہ حرمت اجل کے متعین کرنے کی وجہ سے ہوئی، لیکن وہ نکاح جو حق مہر ادا کر کے کیے جاتے ہیں وہ نہیں۔