السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مِلْءِ كَفٍّ مِنْ طَعَامٍ لَكَانَ ذَلِكَ صَدَاقًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص عورت سے نکاح ایک مٹھی بھر کھانے کے عوض کرے تو یہ حق مہر ہوگا۔“