السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14367
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " قَوْلُهُ نَوَاةٌ يَعْنِي خَمْسَةَ دَرَاهِمَ قَالَ: وَخَمْسَةُ دَرَاهِمَ تُسَمَّى نَوَاةَ ذَهَبٍ، كَمَا تُسَمَّى الْأَرْبَعُونَ أُوقِيَّةً، وَكَمَا تُسَمَّى الْعِشْرُونَ نَشًّا ".حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «نَوَاةٌ» ”نواۃ“ یعنی پانچ درہم، پانچ درہموں کو «نَوَاةٌ مِنْ ذَهَبٍ» ”نواۃ من ذہب“ سے تعبیر کر دیا، جیسے ٤٠ کو «أُوقِيَّةٌ» ”اوقیہ“ کہہ دیتے ہیں اور ٢٠ کا نام «نَشٌّ» ”نش“ رکھ دیتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ٤٠ اوقیہ کو «نَشٌّ» ”نش“ کہتے ہیں اور «نَوَاةٌ» ”نواۃ“ پانچ کو کہتے ہیں۔