السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ الدَّوْسِيُّ: فَإِنَّكَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى " قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ الْحَارِثُ: بَلَى قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَمَارَى هُوَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ حَتَّى إِذَا اشْتَدَّ مِرَاؤُهُمَا فَغَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ: هَلْ تَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟ فَقَالَ الْحَارِثُ: لَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَإِنْ قُلْتُ أَبَيْتُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنِّي لَمْ أُحَدِّثْ كَمَا تَقُولُ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: ثُمَّ أَقَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى الَّذِي يُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " وَتَرَكَ مَا كَانَ يُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " لَا عَدْوَى "، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا عَدْوَى " أَمْ مَا شَأْنُهُ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُبْلِ عَلَيْهِ كَلِمَةً نَسِيَهَا بَعْدَ أَنْ كَانَ يُحَدِّثُنَاهَا مَرَّةً عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ إِنْكَارِهِ مَا كَانَ ⦗٣٥٤⦘ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " لَا عَدْوَى "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ مُخْتَصَرًا.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تندرست کے نزدیک مریض کو نہ لایا جائے“، تو حارث بن ابی ذباب دوسی نے آپ سے کہا کہ آپ ہی تو رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو حارث بن ابی ذباب نے کہا: کیوں نہیں! تم ہی تو بیان کرتے ہو رسول اللہ ﷺ سے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حارث کا جھگڑا بڑھ گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں بات کی، پھر حارث بن ابی ذباب سے کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو میں نے کیا کہا؟ تو حارث نے کہا: نہیں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں، یعنی جیسے تم بیان کرتے ہو ویسے میں نے بیان نہیں کیا۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی اس روایت پر قائم رہے جو وہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بیان فرماتے تھے کہ ”مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔“ اور «لَا عَدْوَىٰ» ”بیماری متعدی نہیں ہوتی“ والا قول جو وہ نبی ﷺ سے بیان فرماتے تھے چھوڑ دیا، تو ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کلمے کو بھول گئے ہیں، یعنی «لَا عَدْوَىٰ» یا ان کی کیا حالت ہے؟ البتہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کوئی کلمہ بھول گئے ہوں جو ایک بار ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کر چکے ہوں، سوائے «لَا عَدْوَىٰ» والے قول کے انکار کے۔