السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا يَحِلُّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ وَلْيَحِلَّ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ " قِيلَ: مَا بَالُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنَّهُ أَذًى ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی مریض کو تندرست کے پاس لانا جائز ہے تاکہ تندرست جہاں چاہے رہے“، کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تکلیف ہے“۔