حدیث نمبر: 14237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَرَأَيْتَ الْإِبِلَ تَكُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَاءِ فَيَأْتِيهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“ تو ایک دیہاتی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا صحت مند اونٹوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہرن کے مانند ہوتے ہیں، پھر ان کے ساتھ خارشی اونٹ آتا ہے تو وہ سارے خارش زدہ ہو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”پہلے کو بیماری کس نے لگائی تھی؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14237
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»