السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14065
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: " لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَزَوْجُهَا كَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْكُفْرِ، إِلَّا فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا، إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَأَنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً فُرِّقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِذَا قَدِمَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی ایسی عورت کی خبر نہیں ملی جس نے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف ہجرت کی ہو اور اس کا کافر خاوند دار الکفر میں مقیم رہا ہو، مگر اس کی ہجرت نے اسے اس کے خاوند سے جدا کر دیا، لیکن اگر عدت کے ختم ہونے سے پہلے خاوند ہجرت کر کے آ جائے تو جدائی نہ ہوگی اور ہمیں یہ اطلاع نہیں ملی کہ جب خاوند عدت کے اندر آ گیا تو پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالی گئی ہو۔