السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14064
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَتْ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ أَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ وَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَيْهِ فَرَحًا، وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ حَتَّى بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور ان کے خاوند یمن کی طرف بھاگ گئے تو ام حکیم رضی اللہ عنہا نے یمن جا کر انہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گئے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عام الفتح کے موقع پر آئے تو رسول اللہ ﷺ انہیں خوشی سے ملے، آپ ﷺ پر چادر بھی نہ تھی تو آپ ﷺ نے ان دونوں (میاں، بیوی) رضی اللہ عنہما کو اسی نکاح میں باقی رکھا۔