السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ كَانَ مُشْرِكِي الْعَرَبِ أَهْلُ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ، وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ، وَلَا يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا تَطَهَّرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُنْكَحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الدَّارَ لَمْ تَكُنْ تُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور مومنوں کے لیے مشرکین کی دو قسمیں تھیں: ایک تو وہ مشرک جو مسلمانوں سے لڑائی کرتے اور مسلمان ان کے خلاف جہاد کرتے، دوسرے وہ مشرک جن سے معاہدہ تھا، نہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑتے اور نہ ہی مسلمان ان کے خلاف لڑتے۔ جب حربی مشرک کی عورتوں میں سے کوئی ہجرت کر کے آئے تو ایک حیض کے بعد طہر میں اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کا خاوند نکاح سے پہلے ہجرت کر کے آ جائے تو اس کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اس حدیث میں دلالت ہے کہ دار تفریق کا باعث نہیں ہے۔