السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُزَكِّي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَاءَكُنَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ، وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ، وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ مِنْهُمُ ابْنَةُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ، وَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ، وَإِلَّا سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ، فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ نَادَاهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَسْيِيرِهِ، ثُمَّ رُجُوعِهِ قَالَ: وَخَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ كَافِرٌ وَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ، وَهُوَ كَافِرٌ، وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ، " فَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَإِسْلَامِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ ".ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عورتیں بغیر ہجرت کیے اپنے علاقے میں مسلمان ہو گئیں اور ان کے خاوند اس وقت غیر مسلم تھے جیسے ولید بن مغیرہ کی بیٹی جو صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، یہ مکہ فتح کے دن اسلام لائی اور صفوان بن امیہ (اسلام سے) بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے چچا کے بیٹے وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر بطورِ امان کی علامت دے کر بھیجا، اور جب صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی چادر لے کر آئے اور آواز دی، (راوی نے) حدیث ذکر کی، یعنی ان کا چلنا پھرنا اور واپس آنا کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین و طائف میں کفر کی حالت میں گئے اور ان کی بیوی مسلمان تھی تو رسول اللہ ﷺ نے میاں، بیوی کے درمیان تفریق نہیں ڈالی، پھر صفوان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تو ان کی بیوی اس نکاح میں باقی رہی، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے اسلام میں تقریباً ایک ماہ کا فاصلہ ہے۔