حدیث نمبر: 14062
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ وَأَهْلِ الْمَغَازِي وَغَيْرِهِمْ، عَنْ عَدَدٍ قَبْلَهُمْ أَنَّ " أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَسْلَمَ بِمَرْوَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهِرٌ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ بِظُهُورِهِ وَإِسْلَامُ أَهْلِهَا دَارَ إِسْلَامٍ، وَامْرَأَتُهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ كَافِرَةٌ بِمَكَّةَ، وَمَكَّةُ يَوْمَئِذٍ دَارُ حَرْبٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهَا يَدَعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَخَذَتْ بِلِحْيَتِهِ، وَقَالَتْ: اقْتُلُوا الشَّيْخَ الضَّالَّ، وَأَقَامَتْ أَيَّامًا قَبْلَ أَنْ تُسْلِمَ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ، وَبَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَبَتَا عَلَى النِّكَاحِ، وَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَأَسْلَمَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا، وَصَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ، وَأَسْلَمَتِ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، وَامْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهَرَبَ زَوْجَاهُمَا نَاحِيَةَ الْيَمَنِ مِنْ طَرِيقِ الْيَمَنِ كَافِرَيْنِ إِلَى بَلَدِ كُفْرٍ، ثُمَّ جَاءَا فَأَسْلَمَا بَعْدَ مُدَّةٍ وَشَهِدَ صَفْوَانُ حُنَيْنًا كَافِرًا، فَدَخَلَ دَارَ الْإِسْلَامِ بَعْدَ هَرَبِهِ مِنْهَا، وَخَرَجَ مِنْهَا كَافِرًا فَاسْتَقَرَّا ⦗٣٠٢⦘ عَلَى النِّكَاحِ، وَكَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ وَنِسَاؤُهُمْ مَدْخُولٌ بِهِنَّ لَمْ تَنْقَضِ عِدَدُهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ

قریش کے اہل علم اور اہل مغازی فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر غلبہ پا لیا اور وہ دار السلام میں تھے اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا مکہ یعنی دار الحرب میں تھی، پھر ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے مکہ آکر اس کو اسلام کی دعوت دی، لیکن اس نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور کہنے لگی: اس گمراہ بوڑھے کو قتل کر دو۔ پھر وہ کئی دن تک اسلام نہ لائی، پھر وہ اسلام لائی اور نبی ﷺ کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کو اس نکاح میں ثابت رکھا اور ہمیں خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو بہت سارے لوگ مسلمان ہو گئے اور مکہ دار السلام بن گیا، عکرمہ اور صفوان رضی اللہ عنہما کی بیویاں بھی اسلام لائیں اور ان کے شوہر یمن کی طرف کفر کی حالت میں بھاگ گئے، پھر ایک مدت کے بعد دونوں مسلمان ہوئے اور صفوان رضی اللہ عنہ حنین کے موقع پر کفر کی حالت میں حاضر ہوئے اور اپنے بھاگنے کے بعد دار السلام میں داخل ہوئے اور کفر کی حالت میں ہی گئے تھے، وہ اسی نکاح پر باقی رہے، ان تمام کی عورتیں مدخول بہا تھیں اور ان کی عدتیں ختم نہ ہوئی تھیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14062
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»