السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا تنكح أمة على حرة وتنكح الحرة على الأمة باب: اس بیان میں کہ آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جائے گا البتہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14005
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ كَانَ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَأَرَادَ أَنْ يَنْكِحَ عَلَيْهَا أَمَةً فَكَرِهَا لَهُ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ کو خبر ملی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جس کے نکاح میں آزاد عورت تھی، وہ لونڈی سے شادی کا متمنی تھا تو انہوں نے ان دونوں کو جمع کرنے کو ناپسند کیا۔