السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا تنكح أمة على حرة وتنكح الحرة على الأمة باب: اس بیان میں کہ آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جائے گا البتہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14006
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ حُرَّةً وَأَمَةً فِي عُقْدَةٍ قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَمَةِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے ایک نکاح میں آزاد اور لونڈی کو رکھا ہوا تھا کہ آزاد اور لونڈی میں تفریق کی جائے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے دو عورتوں سے ایک مرتبہ میں نکاح کیا اور اس کی تین بیویاں تھیں، فرماتے ہیں: اس ایک اور ان دو کے درمیان تفریق پیدا کی جائے اور جب وہ تین سے ایک مرتبہ ہی نکاح کرتا ہے تو اس ایک اور ان تین کے درمیان تفریق کی جائے۔