السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا تنكح أمة على حرة وتنكح الحرة على الأمة باب: اس بیان میں کہ آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جائے گا البتہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14004
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ، وَتُنْكَحُ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ، وَمَنْ وَجَدَ صَدَاقَ حُرَّةٍ، فَلَا يَنْكِحَنَّ أَمَةً أَبَدًا "، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کیا جائے، اور لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح ہو سکتا ہے، اور جو آزاد عورت کا حق مہر پائے وہ کبھی بھی لونڈی سے شادی نہ کرے۔