السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا تنكح أمة على حرة وتنكح الحرة على الأمة باب: اس بیان میں کہ آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جائے گا البتہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14003
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ، ثنا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَتِ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ قَسَمَ لَهَا يَوْمَيْنِ، وَلِلْأَمَةِ يَوْمًا، أَنَّ الْأَمَةَ لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ عَلَى الْحُرَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آزاد عورت سے شادی کی جائے لونڈی کے ہوتے ہوئے تو اس کے لیے باری کے دو دن مقرر کریں اور لونڈی کے لیے ایک دن، اور لونڈی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آزاد عورت کی موجودگی میں اس سے شادی کی جائے۔