السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13940
وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ جَارِيَتَانِ أُخْتَانِ، فَغَشِيَ إِحْدَاهُمَا، فَلَا يَقْرَبِ الْأُخْرَى حَتَّى يُخْرِجَ الَّتِي غَشِيَ مِنْ مِلْكِهِ ".حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب کسی شخص کی دو لونڈیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں اور وہ ایک سے صحبت کر لے تو دوسری کے قریب نہ جائے جب تک اس کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے جس سے صحبت کی تھی۔