السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13939
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَمْلُوكَتَانِ أُخْتَانِ فَوَطِئَ إِحْدَاهُمَا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَطَأَ الْأُخْرَى، فَأَخْرَجَ الَّتِي وَطِئَ مِنْ مِلْكِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دو لونڈیاں جو آپس میں بہنیں تھیں، انہوں نے ایک سے وطی کی۔ پھر دوسری سے وطی کا ارادہ کیا تو جس سے وطی کی تھی اس کو اپنی ملکیت سے نکال دیا۔
(ب) میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس کی دو لونڈیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں، وہ ایک سے صحبت کرلیتا ہے تو دوسری سے اتنی دیر مجامعت نہ کرے جتنی دیر پہلی کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے۔