السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13938
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، ⦗٢٦٧⦘ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُ رَجُلٌ لَهُ أَمَتَانِ أُخْتَانِ وَطِئَ إِحْدَاهُمَا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَطَأَ الْأُخْرَى قَالَ: " لَا حَتَّى يُخْرِجَهَا مِنْ مِلْكِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ اس کی دو لونڈیاں ہیں جو دونوں بہنیں ہیں، اس نے ایک سے مجامعت کر لی اور دوسری سے مجامعت کا ارادہ ہے؟ فرمانے لگے: اس کی ملک سے نکلنے تک جائز نہیں ہے۔