السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبَلِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالُوا: إِنَّ عَلِيًّا قَالَ: أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ، وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " عِنْدَ ذَلِكَ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، إِنَّمَا تُحَرِّمُهُنَّ عَلَى قَرَابَتِي مِنْهُنَّ، وَلَا يُحَرِّمُهُنَّ عَلَى قَرَابَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] ".حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا گیا کہ دونوں بہنیں لونڈیاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آیت ان کو حلال اور دوسری آیت حرام قرار دیتی ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ ان دونوں کو ایک آیت حرام اور دوسری حلال قرار دیتی ہے، ان میں سے بعض تو میرے اوپر اب حرام قرار دیتے قرابتداری کی وجہ سے اور ایک دوسرے کی قرابتداری کی وجہ سے وہ میرے اوپر حرام قرار نہ دیتے، اللہ کے فرمان کی وجہ سے: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ”اور پاک دامن عورتوں سے مگر جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“