السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13936
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ جَارِيَتَانِ أُخْتَانِ، فَيَطَأُ إِحْدَاهُمَا أَيَطَأُ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ، وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَنَا أَنْهَى عَنْهُمَا نَفْسِي وَوَلَدِي "، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْجَارِيَةِ وَابْنَتِهَا مِثْلُ هَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس کی دو لونڈیاں تھیں اور دونوں بہنیں تھیں، وہ ایک سے مجامعت کرتا ہے کیا وہ دوسری سے بھی مجامعت کرے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک آیت حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری حرام قرار دیتی ہے اور میں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ان سے منع کر رکھا ہے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لونڈی اور اس کی بچی کے بارے میں اسی طرح کا حکم منقول ہے۔