السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13865
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ: " ذَلِكَ حُكْمٌ بَيْنَهُمَا فَذَكَرَهُ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: " الزَّانِي لَا يَزْنِي إِلَّا بِزَانِيَةٍ أَوْ مُشْرِكَةٍ، وَالزَّانِيَةُ لَا يَزْنِي بِهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ قَوْلَهُ يَنْكِحُ يُصِيبُ ".حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق پوچھا، وہ فرماتے ہیں: ”یہ حکم ان دو کے درمیان ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے یہاں تک کہ نکاح کر کے اس کو حاصل کر لیتا ہے۔