السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " هُمْ رِجَالٌ كَانُوا يُرِيدُونَ نِكَاحَ نِسَاءٍ زَوَانٍ بَغَايَا مُتَعَالِنَاتٍ كُنَّ كَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقِيلَ لَهُمْ: هَذَا حَرَامٌ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ فَحَرَّمَ اللهُ نِكَاحَهُنَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ دورِ جاہلیت کی مشہور زانیہ عورتوں سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے، تو ان سے کہا گیا کہ یہ حرام ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] نازل کر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔