السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13866
أَخْبَرَنَاهُ الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ: " لَا يَزْنِي إِلَّا بِزَانِيَةٍ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْمَعْنَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زانی مرد زانیہ عورت سے ہی زنا کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنیٰ حدیث دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔