کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
❮
❯
بَابُ نِكَاحِ الْمُحْدِثِينَ وَمَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: 3].
حافظ ثناء اللہ
باب: (زنا کے) مرتکب لوگوں کے نکاح کا بیان، اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں جو (روایات) آئی ہیں: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ عورت یا مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت سے نکاح نہیں کرتا مگر کوئی زانی مرد یا مشرک مرد، اور یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ [سورة النور: 3]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13859
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُسَدَّدٌ وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ، وَكَانَتْ تَكُونُ بِأَجْيَادَ، وَكَانَتْ مُسَافِحَةً، كَانَ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ، وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تَكْفِيَهُ النَّفَقَةَ، فَسَأَلَ رَجُلٌ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٤٧⦘ أَيَتَزَوَّجُهَا؟ فَقَرَأَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَةُ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو ام مہزول کہا جاتا تھا، وہ اجیاد میں رہتی تھی، وہ زانیہ تھی۔ کوئی شخص اس سے شادی کرتا تو وہ شرط لگاتی کہ وہ اس کے خرچے کی بھی کفایت کرے گی تو اس سے شادی کے متعلق ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھ لیا؟ تو نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی یا (راوی کو شک ہے کہ) آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] ”زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13859
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
قَالَ: وَأنبأ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُسَمَّى أُمَّ مَهْزُولٍ، وَأَنَّهَا كَانَتْ تَتَزَوَّجُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَأْذَنَ لَهَا فِي السِّفَاحِ وَتَكْفِيَهُ النَّفَقَةَ، فَاسْتَأْذَنَ بَعْضُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا قَالَ: فَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
معتمر رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ام مہزول تھی، وہ کسی شخص سے شادی کرتی تو اس شرط پر کہ وہ اس کو زنا کی اجازت دے، وہ اس شخص کا خرچہ بھی اٹھائے گی، تو بعض نے نبی ﷺ سے نکاح کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13860
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، وَكَانَ رَجُلًا يَحْمِلُ الْأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمُ الْمَدِينَةَ قَالَ: وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقٌ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، وَأَنَّهُ وَعَدَ رَجُلًا يَحْمِلُهُ مِنْ أَسْرَى مَكَّةَ قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ قَالَ: فَجَاءَتْ عَنَاقٌ، فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ، فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلِيَّ عَرَفَتْ قَالَتْ: مَرْثَدٌ؟ قُلْتُ: مَرْثَدٌ قَالَتْ: هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ؟ قُلْتُ: يَا عَنَاقُ قَدْ حَرَّمَ اللهُ الزِّنَا قَالَتْ: يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ، فَاتَّبِعْنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى كَهْفٍ أَوْ غَارٍ، فَدَخَلْتُهُ فَجَاءُوا حَتَّى جَازُوا عَلَى رَأْسِي، فَبَالُوا فَظَلَّ بَوْلُهُمْ عَلَى رَأْسِي وَأَعْمَاهُمُ اللهُ حَتَّى رَجَعُوا، وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي، وَحَمَلْتُهُ، وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْإِذْخِرِ، فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ، فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ وَيُعْيِينِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْكِحُ عَنَاقًا؟ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ، وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَرْثَدُ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ تھے، جو مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتے تھے۔ مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی دوست رہ چکی تھی، اور انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اٹھا لائیں گے۔ (وہ کہتے ہیں:) میں آیا یہاں تک کہ ایک چاندنی رات مکہ کی دیواروں میں سے کسی دیوار کے سائے میں پہنچا۔ عناق نامی عورت نے میرے سائے کی سیاہی کو دیوار کی جانب دیکھ لیا۔ جب وہ میرے قریب آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنے لگی: ”مرثد!“ میں نے کہا: ”ہاں مرثد۔“ تو کہنے لگی: ”کیا آج رات میرے پاس گزارو گے؟“ مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہہ دیا کہ ”اے عناق! اللہ نے زنا کو حرام کر دیا ہے۔“ تو اس عناق نامی عورت نے آواز دی: ”اے خیموں والو! یہ شخص تمہارے قیدی اٹھا کر لے جاتا ہے۔“ کہتے ہیں: آٹھ اشخاص نے میرا پیچھا کیا اور میں خندمہ (پہاڑ) کی راہ پر چل پڑا، یہاں تک کہ میں ایک غار تک جا پہنچا اور اس میں داخل ہو گیا۔ وہ آئے اور میرے سر کے اوپر سے گزر گئے۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کا پیشاب میرے سر کے اوپر گرا۔ اللہ نے ان کو اندھا کر دیا اور وہ واپس پلٹ گئے۔ میں اپنے ساتھی (قیدی) کے پاس واپس پلٹا اور اسے اٹھا لیا، وہ بھاری شخص تھا، میں اسے لے کر اذخر تک آیا اور میں نے اس کی بیڑی کو کھول دیا۔ میں اس کو اٹھاتا رہا اور وہ مجھے تھکا دیتا تھا، اس طرح میں مدینہ آیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ سورہ نازل ہوئی: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور یہ مومنوں پر حرام کیا گیا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مرثد! زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے۔“ (صحیح لغیرہ، تقدم قبلہ)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّ بَغَايَا مُتَعَلِّنَاتٍ، أَوْ ⦗٢٤٨⦘ مُعْلِنَاتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، بَغِيُّ آلِ فُلَانٍ، وَبَغِيُّ آلِ فُلَانٍ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣] قَالَ: فَأَحْكَمَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ بِالْإِسْلَامِ " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَقِيلَ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دورِ جاہلیت میں زانی عورتیں اعلان کرتی تھیں کہ وہ آلِ فلاں کی زانیہ عورتیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور مومنوں پر یہ حرام ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے جاہلیت کے اس فعل سے منع فرما دیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا: یہ خبر آپ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13862
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدٌ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: ٣] قَالَ: " كُنَّ بَغَايَا فِي الْمَدِينَةِ مَعْلُومٌ شَأْنُهُنَّ فَحَرَّمَ اللهُ نِكَاحَهُنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ " وَهُوَ قَوْلُ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ میں زانیہ عورتوں کی شہرت تھی تو اللہ نے مومنوں کو ان سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا، یہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13863
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " هُمْ رِجَالٌ كَانُوا يُرِيدُونَ نِكَاحَ نِسَاءٍ زَوَانٍ بَغَايَا مُتَعَالِنَاتٍ كُنَّ كَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقِيلَ لَهُمْ: هَذَا حَرَامٌ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ فَحَرَّمَ اللهُ نِكَاحَهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ دورِ جاہلیت کی مشہور زانیہ عورتوں سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے، تو ان سے کہا گیا کہ یہ حرام ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] نازل کر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13864
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ: " ذَلِكَ حُكْمٌ بَيْنَهُمَا فَذَكَرَهُ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: " الزَّانِي لَا يَزْنِي إِلَّا بِزَانِيَةٍ أَوْ مُشْرِكَةٍ، وَالزَّانِيَةُ لَا يَزْنِي بِهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ قَوْلَهُ يَنْكِحُ يُصِيبُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق پوچھا، وہ فرماتے ہیں: ”یہ حکم ان دو کے درمیان ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے وہ اس آیت میں «يَنْكِحُ» (نکاح کرتا ہے) سے مراد جماع کرنا لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13865
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ: " لَا يَزْنِي إِلَّا بِزَانِيَةٍ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْمَعْنَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زانی مرد زانیہ عورت سے ہی زنا کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنیٰ حدیث دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13866
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنِّكَاحِ، وَلَكِنَّهُ الْجِمَاعُ لَا يَزْنِي بِهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ "، ⦗٢٤٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي رِوَايَةِ الْفَقِيهِ وَلَكِنْ لَا يُجَامِعُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ قَالَ: {وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣] " أَيْ وَحُرِّمَ الزِّنَا عَلَى الْمُؤْمِنِينَ "، وَبِمَعْنَاهُ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالضَّحَّاكِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] یہ نکاح نہیں بلکہ جماع ہے جو صرف زانی یا مشرک مرد ہی کرتا ہے۔ یہ ابو عبداللہ (حاکم) کی حدیث کے الفاظ ہیں۔
(ب) فقیہ کی روایت میں ہے کہ اس سے مجامعت صرف زانی یا مشرک مرد ہی کرتا ہے۔
(ج) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں: ﴿وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] کہ مومنوں پر زنا حرام کیا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیادہ قرینِ قیاس، واللہ اعلم، وہی ہے جو ابن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13867
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] الْآيَةَ قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَتْهَا آيَةُ: {وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى} [النور: ٣٢] مِنْكُمْ قَالَ: " فَهِيَ مِنْ أَيَامَى الْمُسْلِمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق انہوں نے فرمایا: اس کو اس آیت نے منسوخ کر دیا ہے ﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ﴾ [سورة النور: 32] ”اور نکاح کرو رنڈیوں کا اپنے میں سے۔“ تو یہ مسلمان بیوہ عورتیں تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13868
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا} قَالَ: " يُذْنِبُ ثُمَّ يَتُوبُ، ثُمَّ يُذْنِبُ ثُمَّ يَتُوبُ " قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: ٣] قَالَ: نَسَخَتْهَا آيَةُ: {وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى} [النور: ٣٢] مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا﴾ [سورة الإسراء: 25] ”بے شک وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ بندہ گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے، پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے؛ میں نے ان سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ آیت: ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کو اس آیت نے منسوخ کر دیا ہے: ﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ﴾ [سورة النور: 32] ”اور تم نکاح کرو بیوہ عورتوں اور نیک غلاموں اور لونڈیوں کے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13869
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»