السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13863
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدٌ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: ٣] قَالَ: " كُنَّ بَغَايَا فِي الْمَدِينَةِ مَعْلُومٌ شَأْنُهُنَّ فَحَرَّمَ اللهُ نِكَاحَهُنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ " وَهُوَ قَوْلُ قَتَادَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ میں زانیہ عورتوں کی شہرت تھی تو اللہ نے مومنوں کو ان سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا، یہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔