السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّ بَغَايَا مُتَعَلِّنَاتٍ، أَوْ ⦗٢٤٨⦘ مُعْلِنَاتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، بَغِيُّ آلِ فُلَانٍ، وَبَغِيُّ آلِ فُلَانٍ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣] قَالَ: فَأَحْكَمَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ بِالْإِسْلَامِ " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَقِيلَ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دورِ جاہلیت میں زانی عورتیں اعلان کرتی تھیں کہ وہ آلِ فلاں کی زانیہ عورتیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور مومنوں پر یہ حرام ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے جاہلیت کے اس فعل سے منع فرما دیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا: یہ خبر آپ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔