السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، وَكَانَ رَجُلًا يَحْمِلُ الْأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمُ الْمَدِينَةَ قَالَ: وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقٌ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، وَأَنَّهُ وَعَدَ رَجُلًا يَحْمِلُهُ مِنْ أَسْرَى مَكَّةَ قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ قَالَ: فَجَاءَتْ عَنَاقٌ، فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ، فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلِيَّ عَرَفَتْ قَالَتْ: مَرْثَدٌ؟ قُلْتُ: مَرْثَدٌ قَالَتْ: هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ؟ قُلْتُ: يَا عَنَاقُ قَدْ حَرَّمَ اللهُ الزِّنَا قَالَتْ: يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ، فَاتَّبِعْنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى كَهْفٍ أَوْ غَارٍ، فَدَخَلْتُهُ فَجَاءُوا حَتَّى جَازُوا عَلَى رَأْسِي، فَبَالُوا فَظَلَّ بَوْلُهُمْ عَلَى رَأْسِي وَأَعْمَاهُمُ اللهُ حَتَّى رَجَعُوا، وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي، وَحَمَلْتُهُ، وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْإِذْخِرِ، فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ، فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ وَيُعْيِينِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْكِحُ عَنَاقًا؟ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ، وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: ٣]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَرْثَدُ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ".سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ تھے، جو مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتے تھے۔ مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی دوست رہ چکی تھی، اور انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اٹھا لائیں گے۔ (وہ کہتے ہیں:) میں آیا یہاں تک کہ ایک چاندنی رات مکہ کی دیواروں میں سے کسی دیوار کے سائے میں پہنچا۔ عناق نامی عورت نے میرے سائے کی سیاہی کو دیوار کی جانب دیکھ لیا۔ جب وہ میرے قریب آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنے لگی: ”مرثد!“ میں نے کہا: ”ہاں مرثد۔“ تو کہنے لگی: ”کیا آج رات میرے پاس گزارو گے؟“ مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہہ دیا کہ ”اے عناق! اللہ نے زنا کو حرام کر دیا ہے۔“ تو اس عناق نامی عورت نے آواز دی: ”اے خیموں والو! یہ شخص تمہارے قیدی اٹھا کر لے جاتا ہے۔“ کہتے ہیں: آٹھ اشخاص نے میرا پیچھا کیا اور میں خندمہ (پہاڑ) کی راہ پر چل پڑا، یہاں تک کہ میں ایک غار تک جا پہنچا اور اس میں داخل ہو گیا۔ وہ آئے اور میرے سر کے اوپر سے گزر گئے۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کا پیشاب میرے سر کے اوپر گرا۔ اللہ نے ان کو اندھا کر دیا اور وہ واپس پلٹ گئے۔ میں اپنے ساتھی (قیدی) کے پاس واپس پلٹا اور اسے اٹھا لیا، وہ بھاری شخص تھا، میں اسے لے کر اذخر تک آیا اور میں نے اس کی بیڑی کو کھول دیا۔ میں اس کو اٹھاتا رہا اور وہ مجھے تھکا دیتا تھا، اس طرح میں مدینہ آیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ سورہ نازل ہوئی: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور یہ مومنوں پر حرام کیا گیا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مرثد! زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے۔“ (صحیح لغیرہ، تقدم قبلہ)