السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13860
قَالَ: وَأنبأ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُسَمَّى أُمَّ مَهْزُولٍ، وَأَنَّهَا كَانَتْ تَتَزَوَّجُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَأْذَنَ لَهَا فِي السِّفَاحِ وَتَكْفِيَهُ النَّفَقَةَ، فَاسْتَأْذَنَ بَعْضُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا قَالَ: فَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا.حافظ ثناء اللہ
معتمر رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ام مہزول تھی، وہ کسی شخص سے شادی کرتی تو اس شرط پر کہ وہ اس کو زنا کی اجازت دے، وہ اس شخص کا خرچہ بھی اٹھائے گی، تو بعض نے نبی ﷺ سے نکاح کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔