السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يكون الكافر وليا لمسلمة باب: اس بیان میں کہ کوئی کافر کسی مسلمان عورت کا ولی نہیں بن سکتا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ زَوَّجَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبُو سُفْيَانَ حَيٌّ، لِأَنَّهَا كَانَتْ مُسْلِمَةً وَابْنُ سَعِيدٍ مُسْلِمٌ، وَلَمْ يَكُنْ لِأَبِي سُفْيَانَ فِيهَا وِلَايَةٌ، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَطَعَ الْوِلَايَةَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ابن سعید بن عاص (سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم ﷺ سے سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا نکاح کرایا جبکہ ابو سفیان زندہ تھے، کیونکہ وہ مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے، اور ابو سفیان کو ان پر کوئی ولایت حاصل نہیں تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ولایت ختم کر دی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ.عروہ رحمہ اللہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں تو عبیداللہ حبشہ کے علاقے میں فوت ہو گئے، تو نجاشی نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی ﷺ سے کر دیا اور اپنی جانب سے چار ہزار حق مہر ادا کیا اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی ﷺ کی طرف روانہ کر دیا۔