کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بیان میں کہ کوئی کافر کسی مسلمان عورت کا ولی نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 13797
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ زَوَّجَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبُو سُفْيَانَ حَيٌّ، لِأَنَّهَا كَانَتْ مُسْلِمَةً وَابْنُ سَعِيدٍ مُسْلِمٌ، وَلَمْ يَكُنْ لِأَبِي سُفْيَانَ فِيهَا وِلَايَةٌ، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَطَعَ الْوِلَايَةَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ابن سعید بن عاص (سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم ﷺ سے سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا نکاح کرایا جبکہ ابو سفیان زندہ تھے، کیونکہ وہ مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے، اور ابو سفیان کو ان پر کوئی ولایت حاصل نہیں تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ولایت ختم کر دی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13797
حدیث نمبر: 13797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں تو عبیداللہ حبشہ کے علاقے میں فوت ہو گئے، تو نجاشی نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی ﷺ سے کر دیا اور اپنی جانب سے چار ہزار حق مہر ادا کیا اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی ﷺ کی طرف روانہ کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13797
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13798
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ⦗٢٢٦⦘ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي وَلِيَ نِكَاحَهَا ابْنُ عَمِّهَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُوَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِيهَا فَإِنَّهَا أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَالْعَاصُ هُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ نِكَاحَهَا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ولی ان کے چچا کے بیٹے خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ان کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص، امیہ کے بیٹے ہیں۔
(ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13798
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13799
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَحَسَّانُ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: " أَنْكَحَهُ إِيَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ "، وَكَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ، وَعُثْمَانُ هُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِيهَا، وَأَيُّهُمَا زَوَّجَهَا، فَالْوِلَايَةُ قَائِمَةٌ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ اخْتِلَافًا ثَالِثًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوالاسود، حضرت عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی زمین میں کروایا تھا۔
(ب) زہری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ، دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے؛ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13799
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرٍو الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أُعْطِيتُهُنَّ، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ، وَأَجْمَلُهُنَّ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ: " نَعَمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَأَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ، فَهَذَا أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِيهِ، فَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ، وَكَانَ لَا يَحْتَجُّ فِي كِتَابِهِ الصَّحِيحِ بِعِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، وَقَالَ: لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ كِتَابٌ فَاضْطَرَبَ حَدِيثُهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي قِصَّةِ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْمَغَازِي عَلَى خِلَافِهِ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي أَنَّ تَزْوِيجَ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَيْبَرَ، فَتَزْوِيجُ أُمِّ حَبِيبَةَ كَانَ قَبْلَهُ وَإِسْلَامُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَيْ فَتْحِ مَكَّةَ بَعْدَ نِكَاحِهَا بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَكَيْفَ يَصِحُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجُهَا بِمَسْأَلَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ مَسْأَلَتُهُ الْأُولَى إِيَّاهُ وَقَعَتْ فِي بَعْضِ خَرَجَاتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهُوَ كَافِرٌ حِينَ سَمِعَ نَعْيَ زَوْجِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَالْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ ⦗٢٢٧⦘ وَالثَّالِثَةُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلَامِهِ لَا يَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا إِلَّا ذَلِكَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزمیل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان ابوسفیان کی طرف توجہ بھی نہ کرتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھتے بھی نہ تھے۔ اس نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! میں آپ کو تین چیزیں پیش کرتا ہوں: (1) میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل بیٹی (ام حبیبہ) ہے، میں اس کی شادی آپ سے کر دیتا ہوں۔ (2) معاویہ کو آپ اپنا کاتبِ وحی مقرر فرما لیں جو میرا بیٹا ہے۔ (3) اور آپ مجھے امیر مقرر فرما دیں تاکہ میں کفار سے ویسے ہی جہاد کروں جیسے میں مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔“ آپ ﷺ نے تینوں مرتبہ «نَعَمْ» ”ہاں“ فرمایا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: جو کچھ اس نے مانگا تھا اگر وہ سوال نہ کرتا تو نبی ﷺ اسے عطا نہ فرماتے، لیکن آپ ﷺ نے ہر مرتبہ «نَعَمْ» ”ہاں“ ہی فرمایا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں ہے، لیکن اہل مغازی اس میں پائے جانے والے اختلاف پر متفق ہیں اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہو چکا تھا اور وہ خیبر کے زمانے میں واپس آئے تھے، جبکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اس سے پہلے ہی ہو چکا تھا اور ابوسفیان کا اسلام لانا فتحِ مکہ کے سال ہوا جو کہ نکاح کے دو یا تین سال بعد کا واقعہ ہے، تو پھر کیسے درست ہو سکتا ہے کہ ان کا نکاح ابوسفیان کے سوال کی وجہ سے ہوا؟ اگر یہ سوال کی بنیاد پر ہے تو مدینہ کے ان کے بعض سفروں میں اس وقت ممکن ہے جب وہ کافر تھے، جب انہوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کی وفات کی خبر سنی تھی، اور باقی دو سوال تو ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13800
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ مسلم 2501»