السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الوكالة في النكاح باب: نکاح میں وکالت (کسی کو وکیل مقرر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 13796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَزَوَّجَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَسَاقَ عَنْهُ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ "، وَرُوِّينَا فِي تَزْوِيجِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ لِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: زَوِّجَا عَمَّكُمَا فَزَوَّجَاهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا تو اس نے آپ ﷺ کی جانب سے وکالت کرتے ہوئے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، آپ ﷺ کا اور آپ ﷺ کی جانب سے ۴۰۰۰ دینار ادا کیے۔
(ب) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوا یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے کہا کہ تم اپنے چچا کا نکاح کر دو تو ان دونوں نے نکاح کر دیا۔