السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: استئذان المملوك والطفل في العورات الثلاث، واستئذان من بلغ الحلم منهم في جميع الحالات باب: غلام اور بچے کا تین پردے کے اوقات میں اجازت مانگنے کا بیان، اور ان میں سے جو بالغ ہو جائیں ان کا ہر حال میں اجازت مانگنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ سَأَلَاهُ عَنِ الِاسْتِئْذَانِ فِي الثَّلَاثِ عَوْرَاتٍ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ اللهَ سِتِّيرٌ يُحِبُّ السَّتْرَ، كَانَ النَّاسُ لَيْسَ لَهُمْ سُتُورٌ عَلَى أَبْوَابِهِمْ، وَلَا حِجَالٌ فِي بُيُوتِهِمْ، فَرُبَّمَا فَاجَأَ الرَّجُلَ خَادِمُهُ، أَوْ وَلَدُهُ، أَوْ يَتِيمُهُ فِي حِجْرِهِ وَهُوَ عَلَى أَهْلِهِ، فَأَمَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْتَأْذِنُوا فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ الَّتِي سَمَّى الله عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ جَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدُ بِالسُّتُورِ، وَبَسَطَ عَلَيْهِمْ فِي الرِّزْقِ، فَاتَّخَذُوا السُّتُورَ، وَاتَّخَذُوا الْحِجَالَ، فَرَأَى النَّاسُ أَنَّ ذَلِكَ قَدْ كَفَاهُمْ مِنَ الِاسْتِئْذَانِ الَّذِي أَمَرَ اللهُ بِهِ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ وَعَطَاءٍ يُضَعِّفُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے قرآن مجید میں تین اوقات میں اجازت کے بارے میں پوچھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پردہ پوش ہے اور پردہ کو پسند کرتا ہے۔“ لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں تھے اور نہ ہی پردے ان کے گھروں میں تھے، تو کبھی کبھی اچانک آدمی کا غلام یا بچہ یا وہ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہوتا، اچانک سامنے آجاتا جبکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا، تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ ان اوقات میں اجازت لے کر آئیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے پردے بھی عطا کیے اور ان کے رزق میں کشادگی ہو گئی، انہوں نے پردے بھی بنا لیے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہی اجازت کے لیے کافی ہے جس کا ﷺ نے حکم دیا ہے۔