حدیث نمبر: 13560
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗١٥٨⦘ نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَلَّمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ: لِمَ رَجَعْتَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُجَبْ، فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا تَقُولُ بَيِّنَةً، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَذَا غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ أَوْعَدَهُ قَالَ: فَجَاءَ أَبُو مُوسَى مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ، وَأَنَا فِي حَلْقَةٍ جَالِسٌ، فَقُلْنَا: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: سَلَّمْتُ عَلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَنَا خَبَرَهُ، فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُلُّنَا قَدْ سَمِعَهُ قَالَ: فَأَرْسَلُوا مَعَهُ رَجُلًا مِنْهُمْ حَتَّى أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، لیکن انہوں نے اجازت نہ دی، پھر وہ لوٹ آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا، جب وہ آگئے تو انہوں نے پوچھا: تو نے یہ کام کیوں کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں کوئی سلام کرے اور جواب نہ ملے تو وہ لوٹ آئے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس اس کی دلیل لے کر آؤ، ورنہ تیرے ساتھ میں ایسے ایسے کروں گا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو ان کا رنگ تبدیل تھا، میں بھی اس حلقے میں موجود تھا، ہم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سلام کیا ہے تو انہوں نے ایسے ایسے کہا ہے، کیا تم میں سے کسی نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے اس گروہ میں سے ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا، یہاں تک کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس حدیث کی خبر دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13560
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2062۔ مسلم 3153»