کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: غلام اور بچے کا تین پردے کے اوقات میں اجازت مانگنے کا بیان، اور ان میں سے جو بالغ ہو جائیں ان کا ہر حال میں اجازت مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 13553
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ، وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ} [النور: ٥٨] قَالَ: " إِذَا خَلَا الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْهِ خَادِمٌ، وَلَا صَبِيٌّ، إِلَّا بِإِذْنٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ، وَإِذَا خَلَا بِأَهْلِهِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ، فَمِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ رُخِّصَ لَهُمْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ} [النور: ٥٨]، فَأَمَّا مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ عَلَى الرَّجُلِ وَأَهْلِهِ، إِلَّا بِإِذْنٍ عَلَى حَالٍ، وَهُوَ قَوْلُهُ: {وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ، فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ} [النور: ٥٩] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ﴾ [سورة النور: 58] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرے عشاء کی نماز کے بعد، تو کوئی خادم کوئی بچہ بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، یہاں تک کہ صبح کی نماز ہو جائے اور جب وہ علیحدہ ہو اپنی بیوی کے ساتھ ظہر کے وقت تو پھر بھی ایسے ہی ہے، پھر رخصت دے دی گئی اس کے درمیانی وقت میں بغیر اجازت کے اللہ کے اس فرمان کے تحت ﴿لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ﴾ [سورة النور: 58] جو بالغ ہے وہ آدمی اور اس کی بیوی پر ان اوقات میں داخل نہ ہو بغیر اجازت کے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے ﴿وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا﴾ [سورة النور: 59]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13553
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13554
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " فِي حِجْرِي أُخْتَانِ أُمَوِّنُهُمَا، وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمَا، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، فَرَادَدْتُهُ قُلْتُ: إِنَّ ذَا يَشُقُّ عَلَيَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ، وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ} [النور: ٥٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَلَمْ يَأْمُرْ هَؤُلَاءِ بِالْإِذْنِ إِلَّا فِي الْعَوْرَاتِ الثَّلَاثِ قَالَ: {وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ} [النور: ٥٩] ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری پرورش میں میری دو بہنیں ہیں اور میں ان پر خرچ کرتا ہوں تو کیا میں بھی ان سے اجازت لوں؟ (یعنی گھر داخل ہوتے وقت) انہوں نے ہاں میں جواب دیا، میں نے ان سے کہا: یہ تو میرے لیے مشقت کا باعث ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ﴾ [سورة النور: 58]، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ان تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: ﴿وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ﴾ [سورة النور: 59]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13554
درجۂ حدیث محدثین: الادب المفرد 1063
تخریج حدیث «الادب المفرد 1063»
حدیث نمبر: 13555
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " آيَةٌ لَمْ يُؤْمِنْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةُ الْإِذْنِ، وَإِنِّي آمُرُ هَذِهِ جَارِيَةٌ لَهُ قَصِيرَةٌ قَائِمَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، أَنْ تَسْتَأْذِنَ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ ایک ایسی آیت ہے جس پر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (یعنی عمل نہیں کرتے)، وہ اجازت والی آیت ہے، اگر کوئی عورت جس کا کوئی نگہبان ہے، میں اس کو اس بات کا حکم دوں گا کہ وہ میرے پاس اجازت مانگ کر آئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13555
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ هُذَيْلًا الْأَعْمَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ إِذْنٌ عَلَى أُمَّهَاتِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ہذیل اعمیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اپنی ماؤں پر بھی اجازت کو لازم پکڑو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13556
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13557
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ: أَيَسْتَأْذِنُ الرَّجُلُ عَلَى وَالِدَتِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ رَأَيْتَ مِنْهَا مَا تَكْرَهُ " وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی والدہ کے پاس بھی داخل ہونے سے پہلے اجازت لے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ ایسی چیز دیکھے گا جو وہ ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13557
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 13558
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " أَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى أُمِّي؟ فَقَالَ: " نَعَمْ "، فَقَالَ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: " اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا "، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا، فَقَالَ: " أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ کیا میں اپنی ماں سے بھی اجازت لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ تو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ رہتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر بھی اجازت لے۔“ آدمی نے کہا کہ میں اس کی خدمت کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تو اس کو ننگی دیکھے؟“ تو اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اجازت لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13558
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13559
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ سَأَلَاهُ عَنِ الِاسْتِئْذَانِ فِي الثَّلَاثِ عَوْرَاتٍ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ اللهَ سِتِّيرٌ يُحِبُّ السَّتْرَ، كَانَ النَّاسُ لَيْسَ لَهُمْ سُتُورٌ عَلَى أَبْوَابِهِمْ، وَلَا حِجَالٌ فِي بُيُوتِهِمْ، فَرُبَّمَا فَاجَأَ الرَّجُلَ خَادِمُهُ، أَوْ وَلَدُهُ، أَوْ يَتِيمُهُ فِي حِجْرِهِ وَهُوَ عَلَى أَهْلِهِ، فَأَمَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْتَأْذِنُوا فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ الَّتِي سَمَّى الله عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ جَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدُ بِالسُّتُورِ، وَبَسَطَ عَلَيْهِمْ فِي الرِّزْقِ، فَاتَّخَذُوا السُّتُورَ، وَاتَّخَذُوا الْحِجَالَ، فَرَأَى النَّاسُ أَنَّ ذَلِكَ قَدْ كَفَاهُمْ مِنَ الِاسْتِئْذَانِ الَّذِي أَمَرَ اللهُ بِهِ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ وَعَطَاءٍ يُضَعِّفُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے قرآن مجید میں تین اوقات میں اجازت کے بارے میں پوچھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پردہ پوش ہے اور پردہ کو پسند کرتا ہے۔“ لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں تھے اور نہ ہی پردے ان کے گھروں میں تھے، تو کبھی کبھی اچانک آدمی کا غلام یا بچہ یا وہ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہوتا، اچانک سامنے آجاتا جبکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا، تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ ان اوقات میں اجازت لے کر آئیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے پردے بھی عطا کیے اور ان کے رزق میں کشادگی ہو گئی، انہوں نے پردے بھی بنا لیے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہی اجازت کے لیے کافی ہے جس کا ﷺ نے حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13559
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»