السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: استحباب التزويج بالأبكار باب: کنواری عورتوں سے نکاح کے مستحب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، وَسُلَيْمَانُ، وَمُسَدَّدٌ، يَتَقَارَبُونَ فِي اللَّفْظِ، وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ قَالَ جَابِرٌ: فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟ " قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَبْدَ اللهِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ، أَوْ قَالَ: تِسْعَ بَنَاتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: " بَارَكَ اللهُ لَكَ "، أَوْ قَالَ: " خَيْرًا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ وَمُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبداللہ فوت ہو گئے اور انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑیں۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک شادی شدہ عورت سے شادی کر لی۔ مجھے نبی ﷺ نے پوچھا: ”اے جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”کنواری یا شادی شدہ؟“ میں نے کہا: شادی شدہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی، تو اس کے ساتھ ہنستا وہ تیرے ساتھ ہنستی۔“ تو میں نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں، تو میں نے اس کو ناپسند کیا کہ ان جیسی ہی میں لے آؤں۔ میں نے یہ پسند کیا کہ میں ایسی عورت لے آؤں جو ان کی پرورش اچھی کرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے۔“ یا فرمایا: ”بھلائی دے۔“