السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: استحباب التزويج بالأبكار باب: کنواری عورتوں سے نکاح کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13472
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدَكٍ ⦗١٣٠⦘ الرَّازِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّكَ نَزَلْتَ وَادِيًا فِيهِ شَجَرٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرَةً لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا فِي أَيِّهَا كُنْتَ تَرْعَى؟ قَالَ: " فِي الشَّجَرَةِ الَّتِي لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا " قَالَتْ: فَأَنَا هِيَ، تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسی وادی میں جاتے ہیں جس میں درخت ہیں، ایک درخت جس سے کھایا گیا ہے اور آپ ﷺ ایک اور ایسا درخت پاتے ہیں جس سے نہیں کھایا گیا، آپ کس سے کھائیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت سے جس سے نہیں کھایا گیا۔“ تو وہ فرماتی ہیں کہ گویا وہ میں ہوں، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔