حدیث نمبر: 13470
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " تَزَوَّجْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَزَوَّجْتَ؟ " فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، فَقَالَ: " مَا لَكَ وَالْعَذَارَى وَلُعَابُهَا " قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے شادی کی۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کس سے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: شادی شدہ عورت سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تو اس کے ساتھ کھیلتا؟“ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تو اس کے ساتھ کھیلتا اور وہ تیرے ساتھ کھیلتی؟“
حدیث نمبر: 13471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، وَسُلَيْمَانُ، وَمُسَدَّدٌ، يَتَقَارَبُونَ فِي اللَّفْظِ، وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ قَالَ جَابِرٌ: فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟ " قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَبْدَ اللهِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ، أَوْ قَالَ: تِسْعَ بَنَاتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: " بَارَكَ اللهُ لَكَ "، أَوْ قَالَ: " خَيْرًا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ وَمُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبداللہ فوت ہو گئے اور انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑیں۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک شادی شدہ عورت سے شادی کر لی۔ مجھے نبی ﷺ نے پوچھا: ”اے جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”کنواری یا شادی شدہ؟“ میں نے کہا: شادی شدہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی، تو اس کے ساتھ ہنستا وہ تیرے ساتھ ہنستی۔“ تو میں نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں، تو میں نے اس کو ناپسند کیا کہ ان جیسی ہی میں لے آؤں۔ میں نے یہ پسند کیا کہ میں ایسی عورت لے آؤں جو ان کی پرورش اچھی کرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے۔“ یا فرمایا: ”بھلائی دے۔“
حدیث نمبر: 13472
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدَكٍ ⦗١٣٠⦘ الرَّازِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّكَ نَزَلْتَ وَادِيًا فِيهِ شَجَرٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرَةً لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا فِي أَيِّهَا كُنْتَ تَرْعَى؟ قَالَ: " فِي الشَّجَرَةِ الَّتِي لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا " قَالَتْ: فَأَنَا هِيَ، تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسی وادی میں جاتے ہیں جس میں درخت ہیں، ایک درخت جس سے کھایا گیا ہے اور آپ ﷺ ایک اور ایسا درخت پاتے ہیں جس سے نہیں کھایا گیا، آپ کس سے کھائیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت سے جس سے نہیں کھایا گیا۔“ تو وہ فرماتی ہیں کہ گویا وہ میں ہوں، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 13473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ الطَّوِيلِ التَّيْمِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَالْقَاضِي فِي رِوَايَتِهِمَا: ابْنُ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”کنواری کو لازم پکڑو؛ کیونکہ وہ منہ کے اعتبار سے زیادہ میٹھی اور رحم کے اعتبار سے زیادہ پاکیزہ اور کم پر راضی ہونے والی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 13474
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُوَيْمٍ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: أَنْتَقُ أَرْحَامًا يُرِيدُ أَكْثَرَ أَوْلَادًا.
حافظ ثناء اللہ
قتیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ رحم کے اعتبار سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے، یعنی اس کی اولاد زیادہ ہوتی ہے۔