السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ تَتُوقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ: " وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " قَالَ: قُلْنَا: نَعَمِ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ: فَقَالَ: " فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قریش میں زیادہ عمدگی پاتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، میرے لیے حلال نہیں۔“