السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗١١٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَلَّقَ سَوْدَةَ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ أَمْسَكَتْ بِثَوْبِهِ، فَقَالَتْ: مَالِي فِي الرِّجَالِ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُحْشَرَ فِي أَزْوَاجِكَ قَالَ: فَرَجَعَهَا وَجَعَلَ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَكَانَ يَقْسِمُ لَهَا بِيَوْمِهَا وَيَوْمِ سَوْدَةَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ فَعَلَتِ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ شَبِيهًا بِهَذَا حِينَ أَرَادَ زَوْجُهَا طَلَاقَهَا.حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے سودہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، جب آپ ﷺ نماز کے لیے نکلے تو انہوں نے آپ ﷺ کو کپڑے سے پکڑ لیا، انہوں نے کہا: ”مجھے کسی آدمی کی ضرورت نہیں ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ ﷺ کی بیوی بن کر اٹھوں۔“ آپ ﷺ نے ان سے رجوع کر لیا اور ان کی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مقرر کر دی، آپ ﷺ نے ان کے لیے دو دن تقسیم کیے، ایک دن ان کا اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا۔