السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13434
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ، حَتَّى يَبْلُغَ الَّذِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَالَ: تَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا، أَرَاهُ قَالَ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا} [النساء: ١٢٨] الْآيَةَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے میری بھتیجی! نبی ﷺ تقسیم میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور بہت کم یہ بات ہوتی کہ آپ ﷺ تمام بیویوں کے پاس اکٹھا چلے جاتے اور ہر عورت کے قریب جاتے بغیر چھونے کے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا، جس دن اس کی باری ہوتی تو آپ ﷺ اس کے پاس رات گزارتے۔ البتہ جب سودہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہوگئیں اور انہوں نے سمجھا کہ آپ ﷺ ان سے علیحدہ ہوجائیں گے تو انہوں نے کہا کہ میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیں تو آپ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول کر لی۔